مقبول خبریں

ایل پی جی مہنگی، گھریلو سلنڈر کی قیمت میں 51 روپے کا اضافہ

ایل پی جی مہنگی ہو گئی ہے اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ماہ ستمبر 2026 کے لیے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس تازہ ترین اضافے کے بعد، گھریلو سلنڈر کی قیمت میں 51 روپے سے زائد کا اضافہ ہوا ہے، جس سے عام صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔ اوگرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق، ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 4 روپے 33 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ایل پی جی کی نئی قیمت 258 روپے 65 پیسے فی کلوگرام مقرر ہو گئی ہے۔ اس اضافے کے نتیجے میں 11.80 کلوگرام کے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 51 روپے 17 پیسے کا اضافہ ہوا ہے، اور اس کی نئی قیمت 3 ہزار 52 روپے مقرر کی گئی ہے۔ یہ اضافہ یکم ستمبر 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔ یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک پہلے ہی مہنگائی کی لپیٹ میں ہے اور توانائی کے شعبے میں اتار چڑھاؤ مسلسل جاری ہے۔

ایل پی جی مہنگی: تازہ ترین اضافہ اور گھریلو بجٹ پر اثرات

ایل پی جی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ پاکستان کے لاکھوں گھرانوں کے لیے ایک اور پریشانی کا باعث بن گیا ہے۔ گھریلو سلنڈر کی قیمت میں 51 روپے 17 پیسے کا اضافہ براہ راست عام آدمی کی جیب پر اثر انداز ہو گا، خصوصاً ایسے علاقوں میں جہاں قدرتی گیس کی فراہمی یا تو دستیاب نہیں یا اس کا پریشر کم ہے۔ اوگرا کے اس فیصلے نے ستمبر کے مہینے کے لیے ایل پی جی کو مزید مہنگا کر دیا ہے، جس سے توانائی کے اخراجات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ملک بھر میں پہلے ہی مہنگائی کی شرح بلند ہے، اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، ایسے میں ایل پی جی کا مہنگا ہونا بنیادی ضروریات کی تکمیل کو مزید مشکل بنا دے گا۔

اس اضافے کا سب سے زیادہ اثر کم آمدنی والے طبقے اور دور دراز کے علاقوں میں رہنے والے افراد پر پڑے گا جو اپنے یومیہ کھانا پکانے کے لیے ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں۔ شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں جہاں قدرتی گیس کی سہولت میسر نہیں، ایل پی جی ایک اہم ایندھن کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ قیمتوں میں اضافے سے گھریلو بجٹ پر دباؤ بڑھے گا، جس کے نتیجے میں خاندانوں کو دیگر ضروری اخراجات میں کٹوتی کرنا پڑ سکتی ہے۔ چھوٹے ہوٹل مالکان، تندور اور چائے خانے بھی اس اضافے سے متاثر ہوں گے، جو بالآخر صارفین کو زیادہ قیمتوں کی صورت میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔

صارفین کی قوت خرید میں مسلسل کمی آ رہی ہے، اور ایل پی جی کی قیمت میں یہ اضافہ ان کی زندگیوں میں مزید مشکلات پیدا کرے گا۔ اس صورتحال میں، عوام کو نہ صرف اپنے توانائی کے اخراجات کو منظم کرنے میں چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ اس کے دیگر معاشی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔ مثال کے طور پر، ایل پی جی پر انحصار کرنے والے چھوٹے کاروباروں کی پیداواری لاگت بڑھ جائے گی، جس سے اشیاء کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

قیمتوں میں اضافے کی وجوہات: عالمی منڈی اور مقامی عوامل

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات عالمی منڈی میں ایل پی جی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں تبدیلی سے منسلک ہیں۔ اوگرا کے ترجمان کے مطابق، ایل پی جی پروڈیوسر کی قیمت سعودی آرامکو-سی پی (Saudi Aramco-CP) اور امریکی ڈالر کے ایکسچینج ریٹ سے منسلک ہوتی ہے۔ موجودہ ماہ ستمبر کے لیے، سعودی آرامکو-سی پی میں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 2.2 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ اوسط ڈالر ایکسچینج ریٹ میں 0.12 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان جیسے درآمد کنندہ ممالک پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ، پاکستان میں توانائی کے شعبے کو کئی مقامی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں گیس کی پیداوار میں کمی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی کمی شامل ہیں۔ ملک میں قدرتی گیس کے ذخائر محدود ہیں اور تیزی سے کم ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے ایل پی جی سمیت دیگر متبادل ایندھن پر انحصار بڑھ رہا ہے۔ ایل پی جی کی طلب میں اضافے کے ساتھ ساتھ، مقامی پیداوار اسے پورا کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں درآمدات پر انحصار بڑھتا ہے۔ درآمدی ایل پی جی عالمی قیمتوں اور شرح مبادلہ کے تابع ہوتی ہے، جس کی وجہ سے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ معمول بن چکا ہے۔

کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال بھی ایل پی جی سمیت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ مارچ 2026 میں، مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث ایل پی جی کی قیمت میں 78 روپے 28 پیسے فی کلو اضافہ کر دیا گیا تھا۔ اس طرح کی عالمی کشیدگی تیل اور گیس کی سپلائی میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے، جس سے قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں اضافے کے باوجود عوام پر مکمل بوجھ منتقل کرنے کے بجائے سبسڈی دی جا رہی ہے، تاہم یہ سبسڈی بھی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے سامنے ناکافی دکھائی دیتی ہے۔

گھریلو صارفین پر بڑھتا بوجھ: سلنڈر کی نئی قیمت اور اس کے اثرات

ایل پی جی کے گھریلو سلنڈر کی قیمت میں 51 روپے 17 پیسے کا حالیہ اضافہ کروڑوں پاکستانی گھرانوں کے لیے ایک نیا مالی بوجھ لے کر آیا ہے۔ اب 11.80 کلوگرام کے گھریلو سلنڈر کی نئی قیمت 3,052 روپے 9 پیسے ہو گئی ہے۔ یہ اضافہ ان خاندانوں کو متاثر کرے گا جو اپنے روزمرہ کے ایندھن کی ضروریات کے لیے ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں۔ پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ گھرانے ایل پی جی سلنڈر استعمال کرتے ہیں، اور حالیہ توانائی بحران میں ایل پی جی کی قیمت میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔

گھریلو صارفین، خصوصاً کم آمدنی والے طبقے اور دیہی علاقوں کے باسی، جہاں پائپ لائن گیس کی رسائی نہیں ہے، ایل پی جی پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اس اضافے سے ان کے ماہانہ بجٹ پر سیدھا اثر پڑے گا، اور انہیں اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ ایندھن پر خرچ کرنا پڑے گا۔ ایسے میں کئی گھرانے ایل پی جی کے استعمال میں کمی لانے یا متبادل، غیر معیاری اور صحت کے لیے نقصان دہ ایندھن جیسے لکڑی یا کوئلے کا رخ کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں، جس سے ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

چھوٹے ہوٹل، ریسٹورنٹس اور تندور بھی ایل پی جی کے بڑے صارفین میں شامل ہیں، اور ان کی پیداواری لاگت میں اضافے کا مطلب ہے کہ کھانے پینے کی اشیاء مزید مہنگی ہو جائیں گی۔ یہ صورتحال مہنگائی کے مجموعی چکر کو مزید تیز کرے گی، جس سے عوام کی قوت خرید مزید کمزور ہو گی۔ اس سے نہ صرف گھریلو معیشت متاثر ہو گی بلکہ چھوٹے پیمانے پر چلنے والے کاروبار بھی شدید دباؤ کا شکار ہوں گے۔ صارفین نے اکثر اوگرا کے مقررہ نرخوں سے زیادہ قیمت وصول کیے جانے کی شکایت بھی کی ہے، لہٰذا اس اضافے کے بعد مارکیٹ میں ناجائز منافع خوری کا رجحان بھی بڑھ سکتا ہے۔

تاریخ فی کلو قیمت (روپے) 11.8 کلو سلنڈر کی قیمت (روپے) اضافہ / کمی (روپے)
جولائی 2026 241.43 2,848.91 (67.33) کمی
اگست 2026 254.32 3,001.00 12.89 اضافہ
ستمبر 2026 258.65 3,052.09 51.17 اضافہ

ایل پی جی کی قیمتوں کا تاریخی جائزہ اور حکومتی حکمت عملی

پاکستان میں ایل پی جی کی قیمتیں گزشتہ چند برسوں سے مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہیں، جس کی بنیادی وجہ عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں تبدیلی اور مقامی سطح پر روپے کی قدر میں کمی ہے۔ اوگرا ہر ماہ ایل پی جی کی نئی قیمتوں کا اعلان کرتا ہے، جو عالمی قیمتوں اور ایکسچینج ریٹ کو مدنظر رکھ کر مقرر کی جاتی ہیں۔ یہ اتار چڑھاؤ نہ صرف صارفین کے لیے ایک مستقل پریشانی کا باعث بنتا ہے بلکہ حکومت کے لیے بھی توانائی کے شعبے کو مستحکم رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

حکومتی سطح پر، توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے مختلف پالیسیاں اختیار کی جاتی رہی ہیں، جن میں درآمدات پر انحصار کم کرنے اور مقامی پیداوار بڑھانے کی کوششیں شامل ہیں۔ تاہم، یہ کوششیں اب تک مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ پاکستان کی معیشت کا بڑا حصہ درآمدی ایندھن پر منحصر ہے، اور عالمی قیمتوں میں اضافہ براہ راست ملکی معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مارچ 2026 میں، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 78 روپے 28 پیسے کا بڑا اضافہ ہوا تھا، جس کے بعد گھریلو سلنڈر 3,588 روپے 59 پیسے کا ہو گیا تھا۔ اس وقت بھی ایل پی جی ڈسٹری بیوشن ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر پالیسی واضح کرے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

جولائی 2026 میں ایل پی جی کی قیمت میں 67 روپے 33 پیسے فی کلو کمی بھی کی گئی تھی، جس کے بعد گھریلو سلنڈر 2,848 روپے 91 پیسے کا ہو گیا تھا۔ یہ کمی شہریوں، ہوٹل مالکان اور تندور چلانے والوں کے لیے خوش آئند تھی، اور انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ اوپن مارکیٹ میں بھی سرکاری نرخوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ تاہم، یہ ریلیف قلیل مدت ثابت ہوا اور اگست میں پھر سے اضافہ دیکھنے میں آیا۔

حکومت کو توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور طویل مدتی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے، جس میں مقامی وسائل کی تلاش، متبادل توانائی ذرائع کا فروغ، اور توانائی کی بچت کے اقدامات شامل ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ، ایل پی جی کی سپلائی چین کو بہتر بنانا اور ناجائز منافع خوری کو روکنا بھی ضروری ہے تاکہ عوام کو سرکاری نرخوں پر ایل پی جی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
ڈان نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی یا اضافے کا تعلق عالمی سطح پر خام تیل اور گیس کی قیمتوں سے ہوتا ہے۔

متبادل ایندھن اور توانائی کے چیلنجز

پاکستان کو توانائی کے ایک سنگین بحران کا سامنا ہے، جو نہ صرف ایل پی جی بلکہ دیگر ایندھن کی قیمتوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ قدرتی گیس کے ذخائر میں کمی اور بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے متبادل ایندھن کے استعمال کی ضرورت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایل پی جی ان متبادل ذرائع میں سے ایک ہے، لیکن اس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اسے عام صارفین کے لیے غیر مستحکم بنا دیتا ہے۔

  • قدرتی گیس کا بحران: پاکستان میں قدرتی گیس کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں، اور نئے ذخائر کی دریافت سست روی کا شکار ہے۔ اس کے نتیجے میں صنعتی اور گھریلو صارفین کو گیس کی قلت اور کم پریشر کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے گھرانے ایل پی جی کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔
  • ایل این جی کی درآمد: پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بھی درآمد کرتا ہے۔ ایل این جی کی قیمتیں بھی عالمی منڈی سے منسلک ہیں، اور اس میں ہونے والے اتار چڑھاؤ سے پاکستان میں توانائی کی قیمتیں متاثر ہوتی ہیں۔ حالانکہ حال ہی میں ایل این جی کی قیمتوں میں 27.71 فیصد تک کمی ہوئی ہے، اس کا اثر ایل پی جی پر براہ راست نہیں پڑتا۔
  • متبادل توانائی ذرائع: توانائی کے بحران کے پیش نظر، پاکستان میں شمسی توانائی جیسے متبادل ذرائع پر زور دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں شمسی توانائی کے استعمال میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ 2024 میں پاکستان میں 17 گیگا واٹ کے سولر پینلز درآمد کیے گئے، اور 2025 میں تقریباً 25 فیصد بجلی شمسی توانائی سے پیدا ہوئی۔ یہ ایک مثبت قدم ہے، لیکن اس کی رسائی ابھی تک محدود ہے۔
  • کوئلہ اور ہائیڈرو پاور: کوئلے سے بجلی کی پیداوار بھی توانائی کے شعبے کا ایک حصہ ہے، لیکن اس کے ماحولیاتی اثرات تشویشناک ہیں۔ ہائیڈرو پاور (پانی سے بجلی) ایک سستا اور ماحول دوست ذریعہ ہے، لیکن یہ موسمی حالات اور نئے ڈیموں کی تعمیر پر منحصر ہے۔

حکومت کو توانائی کی پیداوار اور طلب کے درمیان موجود فرق کو پر کرنے کے لیے طویل مدتی حکمت عملی اپنانی چاہیے، جس میں مقامی وسائل کی تلاش اور متبادل توانائی ذرائع کو بڑے پیمانے پر فروغ دینا شامل ہو۔

مستقبل کے امکانات اور عوام کے لیے تجاویز

ایل پی جی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور توانائی کے مجموعی بحران کے پیش نظر، مستقبل کے امکانات ملے جلے نظر آتے ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں استحکام کے بغیر پاکستان میں ایل پی جی کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان کم ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستانی روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ بھی مقامی قیمتوں کو متاثر کرتا رہے گا۔ تاہم، اگر حکومت مؤثر اقدامات کرے اور طویل مدتی پالیسیاں اپنائے تو صورتحال میں بہتری آ سکتی ہے۔

عوام کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ توانائی کی بچت کے طریقوں پر عمل کریں اور متبادل ذرائع کے استعمال پر غور کریں۔

  • توانائی کی بچت: گھریلو صارفین کو توانائی کی بچت کے لیے جدید آلات استعمال کرنے چاہیے، جیسے کہ توانائی کی کم کھپت والے چولہے اور ہیٹرز۔ کھانے پکاتے وقت پریشر کوکر کا استعمال اور برتنوں کو ڈھک کر پکانا بھی ایندھن کی بچت میں مدد دے سکتا ہے۔
  • متبادل ایندھن کا استعمال: جہاں ممکن ہو، شمسی توانائی سے چلنے والے آلات یا بائیو گیس جیسے متبادل ذرائع کو اپنایا جا سکتا ہے۔ اگرچہ ان کی ابتدائی لاگت زیادہ ہو سکتی ہے، لیکن طویل مدت میں یہ مالی بوجھ کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔
  • حکومتی اقدامات پر دباؤ: عوام کو حکومتی سطح پر توانائی کی مؤثر پالیسیوں کے لیے آواز اٹھانی چاہیے، جس میں مقامی پیداوار میں اضافہ، درآمدات پر انحصار میں کمی، اور شفاف قیمتوں کا تعین شامل ہو۔
  • ناجائز منافع خوری کے خلاف رپورٹ: اگر مارکیٹ میں ایل پی جی اوگرا کے مقرر کردہ نرخوں سے زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہی ہے، تو صارفین کو فوری طور پر ضلعی انتظامیہ یا متعلقہ اداروں کو رپورٹ کرنا چاہیے۔

حکومتی سطح پر، توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا چاہیے، خاص طور پر مقامی تیل و گیس کی تلاش اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں پر۔ کوہاٹ میں نشپا بلاک میں تیل و گیس کی دریافت جیسے واقعات خوش آئند ہیں، جن سے 2028 تک تیل و گیس کی پیداوار میں اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس طرح کے منصوبے ملک کو درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

نتیجہ

ایل پی جی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ، جس کے نتیجے میں گھریلو سلنڈر 51 روپے سے زائد مہنگا ہو گیا ہے، پاکستانی عوام کے لیے ایک اور مالی چیلنج لے کر آیا ہے۔ یہ اضافہ عالمی منڈی میں ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے اور پاکستانی روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ کا نتیجہ ہے، جس کے اثرات براہ راست عام آدمی کے بجٹ پر پڑیں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایل پی جی کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے طویل مدتی اور جامع حکمت عملی اپنائے۔

مقامی پیداوار میں اضافہ، متبادل توانائی ذرائع کا فروغ، اور سپلائی چین میں شفافیت لانا اس بحران سے نکلنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ عوام کو بھی توانائی کی بچت اور متبادل ذرائع کے استعمال کو فروغ دے کر اس صورتحال کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ جب تک پائیدار حل نہیں ڈھونڈے جاتے، ایل پی جی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور اس کے نتیجے میں عوام پر بڑھتا بوجھ ایک مستقل مسئلہ رہے گا۔