مقبول خبریں

خلا میں آزادانہ طور پر گرتے ایٹموں نے گیلیلیو کے کششِ ثقل کے تجربے کو ایک نیا رخ دے دیا

خلا میں آزادانہ طور پر گرتے ایٹموں کے حالیہ تجربات نے قدیم طبیعیات کے ایک بنیادی ستون، یعنی گیلیلیو کے کششِ ثقل کے اصولِ مساوات (Equivalence Principle) کو ایک نیا اور غیر متوقع رخ دے دیا ہے۔ صدیوں پہلے، اطالوی سائنسدان گیلیلیو گیلیلی نے مبینہ طور پر پیسا کے جھکے ہوئے مینار سے مختلف وزن کی اشیاء گرا کر یہ ثابت کیا تھا کہ ہوا کی مزاحمت نہ ہو تو تمام اشیاء ایک ہی رفتار سے زمین کی طرف گرتی ہیں۔ یہ سادہ مشاہدہ اس بنیاد پر کھڑا تھا کہ کسی شے کا کششی کمیت (gravitational mass) اور جمودی کمیت (inertial mass) آپس میں برابر ہوتے ہیں۔ یہ اصول آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت عمومی (General Relativity) کی بنیاد بن گیا۔ تاہم، جدید سائنسدانوں نے، خاص طور پر خلا میں، ایٹموں کے ساتھ انتہائی حساس تجربات کر کے اس اصول کو انتہائی درستگی سے جانچا ہے، اور ان نتائج نے کائنات کے بنیادی قوانین کو سمجھنے کے لیے نئے دریچے کھول دیے ہیں۔

گیلیلیو کا اصول مساوات اور اس کی تاریخی اہمیت

گیلیلیو گیلیلی کے مشہور تجربات، چاہے وہ پیسا کے مینار سے کیے گئے ہوں یا ڈھلوان سطحوں پر، نے طبیعیات میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔ ان تجربات کا بنیادی نتیجہ یہ تھا کہ کششِ ثقل کے زیرِ اثر تمام اجسام، ان کے وزن یا ترکیب سے قطع نظر، ایک ہی شرح سے اسراع (accelerate) کرتے ہیں۔ یہ اصول، جسے کمزور اصولِ مساوات (Weak Equivalence Principle – WEP) کہا جاتا ہے، آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت عمومی کا ایک بنیادی ستون ہے۔ اس اصول کے مطابق، کسی بھی شے کی کششی کمیت (جو کششِ ثقل کی قوت کا تعین کرتی ہے) اور اس کی جمودی کمیت (جو قوت لگنے پر شے کے اسراع کا تعین کرتی ہے) بالکل برابر ہوتی ہے۔ اگر یہ دونوں کمیتیں برابر نہ ہوتیں، تو مختلف اشیاء کششِ ثقل کے میدان میں مختلف رفتار سے گرتی تھیں۔

گیلیلیو کے بعد، آئزک نیوٹن نے کششِ ثقل کا اپنا قانون پیش کیا، جس نے سیاروں کی حرکت اور زمین پر اشیاء کے گرنے کی وضاحت کی۔ نیوٹن کے قانون نے گیلیلیو کے اصولِ مساوات کو مزید تقویت بخشی۔ بعد ازاں، بیسویں صدی کے آغاز میں البرٹ آئن سٹائن نے اپنے نظریہ اضافیت عمومی کے ذریعے کششِ ثقل کو زمان و مکاں (spacetime) کی ساخت میں خمیدگی کے طور پر بیان کیا۔ آئن سٹائن کا یہ نظریہ بھی کمزور اصولِ مساوات پر سختی سے انحصار کرتا ہے، اور اگر یہ اصول غلط ثابت ہو جائے تو آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت میں سنگین خامیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

زمین پر کئی بار اس اصول کو مختلف طریقوں سے جانچا گیا ہے، بشمول مشہور ایوٹووس (Eötvös) تجربات کے۔ تاہم، زمین کی فضا اور دیگر بیرونی مداخلتیں (جیسے ہوا کی مزاحمت) ان تجربات کی درستگی کو محدود کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسدان طویل عرصے سے خلا میں اس اصول کی جانچ کرنے کے خواہشمند رہے ہیں۔

جدید فزکس میں گیلیلیو کے اصول کی جانچ: زمینی حدود سے خلا تک

گیلیلیو کے اصولِ مساوات کی درستگی کو جدید فزکس میں انتہائی باریک بینی سے پرکھا جا رہا ہے۔ زمین پر کیے گئے تجربات، جن میں مختلف مادوں سے بنے ہوئے سلنڈروں کو گرایا گیا، نے ایک خاص حد تک درستگی حاصل کی ہے۔ لیکن زمینی ماحول کی وجہ سے ان تجربات کی درستگی کی ایک حد ہوتی ہے۔ خلا میں، جہاں اشیاء طویل عرصے تک آزادانہ گراوٹ (free fall) میں رہ سکتی ہیں اور بیرونی مداخلتیں کم ہوتی ہیں، اس اصول کو غیر معمولی درستگی سے جانچا جا سکتا ہے۔

خلائی تجربات میں سے ایک اہم مثال MICROSCOPE مشن ہے، جسے 2016 میں لانچ کیا گیا تھا۔ اس فرانسیسی سیٹلائٹ نے آزادانہ گرنے والے اجسام (پلاٹینم اور ٹائٹینیم کے مرکب سے بنے ٹیسٹ ماسز) کے اسراع میں انحراف کی تلاش کی۔ پانچ ماہ کے ڈیٹا کی بنیاد پر، اس مشن نے ثابت کیا کہ آزادانہ گرنے والے اجسام کے اسراع میں فرق 10-15 کے ایک حصے سے زیادہ نہیں تھا۔ یہ ایک غیر معمولی درستگی ہے جس نے آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت عمومی کی بنیاد کو مزید مضبوط کیا۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایٹمی سطح پر بھی یہ اصول برقرار رہتا ہے؟ کیونکہ ایٹم، بڑے اجسام کے برعکس، کوانٹم فزکس کے قوانین کے پابند ہوتے ہیں۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کمزور اصولِ مساوات کی ممکنہ خلاف ورزیاں کوانٹم سطح پر ظاہر ہو سکتی ہیں، جو کوانٹم فزکس اور اضافیت عمومی کے درمیان موجود خلیج کو پُر کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ اسی مقصد کے لیے، آزادانہ گرتے ایٹموں کے ساتھ خلائی تجربات کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

خلا میں آزادانہ گرتے ایٹموں کا تصور اور اہمیت

آزادانہ گرتے ایٹموں کے تجربات کا تصور گیلیلیو کے اصل تجربے کو کوانٹم سطح پر لانے کے مترادف ہے۔ جس طرح گیلیلیو نے دو مختلف وزن کی اشیاء کو گرایا تھا، اسی طرح جدید سائنسدان دو مختلف اقسام کے ایٹموں، یا ایک ہی عنصر کے مختلف آئسوٹوپس (جن میں نیوٹران کی تعداد مختلف ہوتی ہے اور اس طرح ان کی کمیت بھی مختلف ہوتی ہے)، کو آزادانہ گراوٹ میں جانچتے ہیں۔ زمین پر، یہ تجربات عمودی خلاء میں کیے جاتے ہیں، لیکن خلا میں، ایٹموں کو طویل عرصے تک تقریباً مکمل مائیکرو گریویٹی کی حالت میں آزادانہ گرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

ایٹموں کے ساتھ تجربات کی اہمیت کئی وجوہات کی بنا پر ہے۔

  • انتہائی درستگی: ایٹم انٹر فیومیٹری (Atom Interferometry) جیسی تکنیکوں کے ذریعے ایٹموں کے اسراع کو غیر معمولی درستگی سے ناپا جا سکتا ہے، جو روایتی مادوں کے ساتھ ممکن نہیں۔
  • کوانٹم اثرات: چونکہ ایٹم کوانٹم ذرات ہیں، ان کے ساتھ کیے گئے تجربات سے کوانٹم کششِ ثقل کے ممکنہ اثرات یا کمزور اصولِ مساوات کی خلاف ورزیوں کا پتہ چل سکتا ہے جو بڑے اجسام میں ناقابلِ شناخت ہیں۔
  • اضافیت اور کوانٹم فزکس کے درمیان ربط: یہ تجربات دونوں نظریات کے درمیان تعلق کو تلاش کرنے میں مدد کر سکتے ہیں، جو جدید فزکس کا ایک سب سے بڑا چیلنج ہے۔
  • بنیادی مستقلات کی پیمائش: کششِ ثقل کے مستقل (gravitational constant G) جیسے بنیادی مستقلات کی درست پیمائش میں بھی ایٹم انٹر فیومیٹری مفید ثابت ہو سکتی ہے۔

سرد ایٹموں کی انٹر فیومیٹری اور کششِ ثقل کے تجربات

سرد ایٹموں کی انٹر فیومیٹری (Cold Atom Interferometry) وہ کلیدی ٹیکنالوجی ہے جو گیلیلیو کے اصولِ مساوات کی جانچ کو ایک نئی سطح پر لے جا رہی ہے۔ اس تکنیک میں، ایٹموں کو لیزر لائٹ کا استعمال کرتے ہوئے مطلق صفر (absolute zero) کے قریب درجہ حرارت تک ٹھنڈا کیا جاتا ہے۔ اس انتہائی ٹھنڈی حالت میں، ایٹموں کی کوانٹم خصوصیات زیادہ نمایاں ہو جاتی ہیں اور وہ مادّی لہروں (matter waves) کی طرح برتاؤ کرتے ہیں۔

ایٹم انٹر فیومیٹر بنیادی طور پر مائیکل سن انٹر فیومیٹر کی طرح کام کرتا ہے، لیکن روشنی کی لہروں کے بجائے مادّی لہروں (ایٹموں) کا استعمال کرتا ہے۔ لیزر پلسز کا استعمال کرتے ہوئے، ایٹموں کی مادّی لہروں کو دو راستوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، جو کششِ ثقل کے میدان سے گزرتے ہوئے پھر آپس میں مل کر ایک مداخلتی نمونہ (interference pattern) بناتے ہیں۔ اس نمونے میں ہونے والی چھوٹی سے چھوٹی تبدیلی بھی کششِ ثقل کے میدان یا ایٹموں کے اسراع میں انتہائی معمولی فرق کو ظاہر کرتی ہے۔

خلا میں ایسے تجربات کے لیے، چین کے تیانگونگ خلائی اسٹیشن (Tiangong Space Station) پر روبیڈیم (rubidium) ایٹموں کے ساتھ تجربات کیے گئے ہیں۔ اگست 2026 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، سائنسدانوں نے سرد روبیڈیم ایٹموں کے دو بادلوں کے رشتہ دار اسراع کو ناپا۔ ان ایٹموں کے بادلوں میں نیوٹران کی تعداد میں فرق کی وجہ سے مختلف کمیتیں تھیں، پھر بھی ان کے اسراع میں 0.05 ہزارویں فیصد تک کی درستگی کے ساتھ مطابقت پائی گئی۔ یہ نتیجہ کمزور اصولِ مساوات کی تائید کرتا ہے کہ کششی اور جمودی کمیتیں برابر ہیں۔

تجربہ مقام ٹیسٹ ماسز / ایٹم حاصل شدہ درستگی اہمیت
گیلیلیو کے ابتدائی تجربات زمین (پیسا، ڈھلوان) مختلف وزنی اجسام پہلی بار اصول کی تصدیق بنیادی اصول کی بنیاد
MICROSCOPE سیٹلائٹ زمین کا مدار (خلا) پلاٹینم اور ٹائٹینیم کے مرکب 10-15 کا 1 حصہ اضافیت عمومی کی انتہائی درست تصدیق
زمین پر ایٹم ڈراپ ٹیسٹ زمین (ویکیوم ٹیوبز) روبیڈیم آئسوٹوپس ایک ٹریلین کا ایک حصہ کوانٹم سطح پر اصول کی تصدیق
تیانگونگ خلائی اسٹیشن پر ایٹم خلا (چین کا خلائی اسٹیشن) سرد روبیڈیم ایٹمز 0.05 ہزارویں فیصد کی درستگی خلا میں کوانٹم WEP کی پہلی تصدیق
NASA Cold Atom Lab (CAL) بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) الٹرا کولڈ روبیڈیم ایٹمز ابتدائی نتائج، ٹیکنالوجی کی پختگی خلائی کوانٹم ٹیکنالوجیز کی بنیاد

خلائی تجربات کی ٹیکنالوجی اور چیلنجز

خلا میں ایٹم انٹر فیومیٹری کے تجربات کرنا ایک انتہائی پیچیدہ اور مشکل کام ہے۔ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) پر ناسا کی کولڈ ایٹم لیب (Cold Atom Lab – CAL) اور چین کے تیانگونگ خلائی اسٹیشن پر کیے جانے والے تجربات ان چیلنجوں پر قابو پانے کی کوششوں کی مثال ہیں۔

چیلنجز:

  • انتہائی ٹھنڈے ایٹم پیدا کرنا: ایٹموں کو لیزروں اور مقناطیسی جالوں کا استعمال کرتے ہوئے مطلق صفر کے قریب ٹھنڈا کرنا، اور پھر انہیں خلائی ماحول میں مستحکم رکھنا ایک بہت بڑا تکنیکی چیلنج ہے۔
  • خلائی ارتعاش (Vibrations): خلائی اسٹیشن کے اندرونی ارتعاش اور حرکتیں ایٹم انٹر فیومیٹر کی انتہائی حساس پیمائشوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ان اثرات کو کم کرنے کے لیے خصوصی تنصیبات اور الگورتھم کی ضرورت ہوتی ہے۔
  • جگہ اور وزن کی پابندیاں: خلائی جہازوں میں تجرباتی آلات کے لیے دستیاب جگہ اور وزن بہت محدود ہوتا ہے۔ CAL جیسی لیبز کو انتہائی کمپیکٹ اور خودکار بنایا گیا ہے تاکہ وہ خلائی ماحول میں کام کر سکیں۔
  • طویل مدتی آپریشن: یہ تجربات اکثر مہینوں یا سالوں تک جاری رہتے ہیں، جس کے لیے آلات کی مضبوطی، بھروسے مندی اور دور سے دیکھ بھال کی صلاحیت ضروری ہوتی ہے۔
  • کوانٹم مکینکس اور کششِ ثقل کا امتزاج: کوانٹم سطح پر کششِ ثقل کے اثرات کا مطالعہ کرنے کے لیے ایسے طریقوں کی ضرورت ہے جو دونوں نظریات کے درمیان توازن قائم کر سکیں۔

ان چیلنجوں کے باوجود، خلائی تحقیق میں ایٹم انٹر فیومیٹری کی صلاحیت بے پناہ ہے۔ یہ نہ صرف کمزور اصولِ مساوات کی درستگی کو پرکھنے کا ایک ذریعہ ہے، بلکہ اس سے کششِ ثقل کی لہروں کا پتہ لگانے، کائنات میں تاریک مادے اور تاریک توانائی کے اثرات کو سمجھنے، اور یہاں تک کہ کوانٹم گھڑیوں کی درستگی کو بڑھانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

پاکستان میں بھی خلائی تحقیق کے شعبے میں دلچسپی بڑھ رہی ہے، اور مستقبل میں ایسے جدید خلائی تجربات میں عالمی تعاون کے ذریعے شمولیت سے ملکی سائنسی ترقی کو فروغ مل سکتا ہے۔
ڈان نیوز کی ایک رپورٹ خلا میں بیج بھیجنے اور ان کے اثرات پر تحقیق کے ذریعے مستقبل کے خلائی مشنوں کی جانب ملکی عزم کو اجاگر کرتی ہے۔

نئے نتائج اور مساوات کے اصول پر اثرات

خلا میں ایٹموں کے ساتھ کیے گئے حالیہ تجربات نے کمزور اصولِ مساوات کی درستگی کو ایک نئی سطح پر ثابت کیا ہے۔ چین کے تیانگونگ خلائی اسٹیشن پر روبیڈیم ایٹموں کے تجربے نے یہ دکھایا کہ مختلف کمیت کے ایٹموں کے بادل تقریباً یکساں اسراع کے ساتھ گرتے ہیں، جس کی درستگی 0.05 ہزارویں فیصد تک تھی۔ یہ نتائج روایتی مادوں کے ساتھ کیے گئے خلائی تجربات (جیسے MICROSCOPE) کے نتائج سے مطابقت رکھتے ہیں اور اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کمزور اصولِ مساوات کوانٹم سطح پر بھی برقرار رہتا ہے۔

یہ نتائج آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت عمومی کے لیے ایک بڑی کامیابی ہیں۔ اگر ایٹمی سطح پر بھی کمزور اصولِ مساوات کی خلاف ورزی کا معمولی سا بھی اشارہ مل جاتا، تو اس سے فزکس کے بنیادی نظریات پر سوال اٹھ جاتے اور ایک نئے نظریے کی ضرورت محسوس ہوتی جو کششِ ثقل اور کوانٹم مکینکس کو یکجا کر سکے۔ اب تک کے نتائج اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ اصول اپنی مضبوطی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

تاہم، ان تجربات کی اہمیت صرف اصول کی تصدیق تک محدود نہیں ہے۔ یہ تجربات ہمیں کائنات کے بارے میں مزید گہرائی سے سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اگرچہ اب تک کمزور اصولِ مساوات کی کوئی خلاف ورزی نہیں ملی، لیکن مستقبل میں مزید حساس تجربات ممکن ہیں جو انتہائی چھوٹے انحرافات کو پکڑ سکیں۔ ایسے انحرافات نئی فزکس، جیسے سپیس ٹائم ٹورژن (spacetime torsion) یا ڈارک انرجی کے ساتھ ایٹموں کے تعاملات کے ثبوت فراہم کر سکتے ہیں، جس سے کائنات کے مزید گہرے رازوں سے پردہ اٹھ سکتا ہے۔

آئندہ تحقیق اور کائنات کے بنیادی راز

آزادانہ گرتے ایٹموں کے ذریعے کششِ ثقل کے اصولوں کی جانچ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، اور مستقبل میں اس شعبے میں بہت زیادہ تحقیق کی توقع ہے۔ سائنسدانوں کا ہدف ہے کہ وہ ان تجربات کی درستگی کو مزید بڑھائیں تاکہ کمزور اصولِ مساوات کی ممکنہ، انتہائی معمولی خلاف ورزیوں کا پتہ لگایا جا سکے۔ یہ کوششیں نئے خلائی مشنوں اور جدید زمینی لیبز کے ذریعے کی جائیں گی۔

  • STE-QUEST مشن: یورپی خلائی ایجنسی (ESA) کا Space-Time Explorer and Quantum Equivalence Principle Space Test (STE-QUEST) مشن ایک ایسا طویل المدتی منصوبہ ہے جس کا مقصد خلا میں ایٹم انٹر فیومیٹرز کا استعمال کرتے ہوئے اصولِ مساوات کو مزید درستگی سے جانچنا ہے۔ یہ مشن 2025 کے بعد لانچ ہونے کی توقع ہے۔
  • بہتر ایٹم انٹر فیومیٹر: مستقبل کے ایٹم انٹر فیومیٹر مزید بڑے پیمانے پر اور زیادہ دیر تک آزادانہ گراوٹ میں ایٹموں کو استعمال کریں گے، جس سے پیمائشوں کی درستگی کئی گنا بڑھ جائے گی۔
  • کوانٹم کششِ ثقل: ان تجربات سے حاصل ہونے والے نتائج کوانٹم کششِ ثقل کے نظریات کو جانچنے میں مدد کریں گے۔ فزکس میں سب سے بڑا حل طلب مسئلہ کوانٹم مکینکس اور نظریہ اضافیت عمومی کو ایک متحد نظریے میں یکجا کرنا ہے، اور ایٹمی سطح پر کششِ ثقل کے ساتھ تجربات اس سمت میں ایک اہم قدم ہیں۔
  • بنیادی مستقلات کی تلاش: آزادانہ گرتے ایٹموں کے ذریعے کائنات کے دیگر بنیادی مستقلات، جیسے گراویٹیشنل کپلنگ کانسٹنٹ (gravitational coupling constant) کی درست پیمائش بھی ممکن ہو سکے گی۔
  • ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی: یہ تجربات ممکنہ طور پر ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کے ساتھ ایٹموں کے تعاملات کے بارے میں بھی سراغ فراہم کر سکتے ہیں، جو کائنات کی ساخت اور ارتقاء کے اسرار کو حل کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔

ان تمام کوششوں کا حتمی مقصد کائنات کے بنیادی قوانین کو گہرائی سے سمجھنا اور ان نظریات کی حدود کو تلاش کرنا ہے جو فی الحال طبیعیات کی بنیاد ہیں۔ گیلیلیو کا سادہ سا مشاہدہ آج کوانٹم دور میں ایک نئے رنگ روپ کے ساتھ تحقیق کے میدان کو آگے بڑھا رہا ہے، اور شاید مستقبل میں یہ ہمیں کائنات کے ایسے رازوں سے پردہ اٹھانے میں مدد دے جس کا ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔

نتیجہ

خلا میں آزادانہ طور پر گرتے ایٹموں کے تجربات نے گیلیلیو کے کششِ ثقل کے اصولِ مساوات کو ایک بار پھر غیر معمولی درستگی کے ساتھ ثابت کیا ہے۔ چین کے تیانگونگ خلائی اسٹیشن اور بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر کیے جانے والے ان تجربات نے یہ ظاہر کیا ہے کہ کششی کمیت اور جمودی کمیت کی مساوات کوانٹم سطح پر بھی برقرار رہتی ہے، جو آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت عمومی کے لیے ایک اہم تصدیق ہے۔ اگرچہ اب تک کمزور اصولِ مساوات کی کوئی خلاف ورزی نہیں ملی، لیکن ان جدید تجربات نے ہمیں کائنات کے بنیادی قوانین کو جانچنے اور کوانٹم کششِ ثقل کی طرف بڑھنے کے لیے ایک نیا، طاقتور ٹول فراہم کیا ہے۔ مستقبل میں مزید حساس اور طویل مدتی خلائی مشنوں کے ذریعے، سائنسدانوں کو امید ہے کہ وہ اس اصول کی درستگی کو مزید گہرائی سے پرکھیں گے، جس سے کائنات کے اسرار کو حل کرنے اور نئی فزکس کو دریافت کرنے کے راستے کھل سکتے ہیں۔ یہ تحقیق نہ صرف قدیم تصورات کو جدید سائنس سے جوڑتی ہے بلکہ ہمیں کائنات کی گہرائیوں میں چھپے مزید حیرت انگیز حقائق کو جاننے کی جانب ایک قدم اور قریب لے جاتی ہے۔